Friday, 04 April 2025
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. America Ko Bojh Mehsoos Hota Europe

America Ko Bojh Mehsoos Hota Europe

معاملہ اگر امریکہ کے "قومی سلامتی امور" تک ہی محدود ہوتا تو یہ کالم لکھنے کی مجھے ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ امریکی نائب صدر کی ایک ایسے گروپ میں (اب برسرِعام) ہوئی گفتگو جس کے شرکاء میں امریکہ ہی کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع، سی آئی اے چیف اور دفاعی اور سلامتی امور کے دیگر اعلیٰ ترین عہدے دار بھی شامل تھے درحقیقت دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کے حتمی فیصلہ سازوں کی حقیقی سوچ کا اظہار ہے۔ مذکورہ سوچ کے مطابق امریکہ اب یورپ کو اپنا "اتحادی" نہیں بلکہ "بوجھ" محسوس کرنا شروع ہوگیا ہے۔

یورپ کے بارے میں یہ سوچ بھی شاید مجھے پریشان نہ کرتی۔ پاکستان جیسے ملکوں کو مذکورہ گفتگو کی بدولت بالآخر جان لینا چاہیے کہ امریکہ کسی کا بھی "یار" نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے اگر سوویت یونین کو "افغان جہاد" کی بدولت تاریخ کے کوڑے دان میں دھکیلا تو ٹرمپ اور اس کے ساتھ اقتدار میں آئے لوگ اس کے بارے میں احسان مند محسوس نہیں کرتے۔ امریکہ میں مقیم عاشقانِ عمران کو بھی یہ توقع بھلادینا چاہیے کہ ان کے محبوب رہ نما کو وائٹ ہائوس کے "گھریلوحصہ"کی سیر کروانے والا ٹرمپ ایک بار پھر امریکہ کا صدر بن کر عمران خان کو جیل سے رہا کروانا چاہے گا۔ مزید لکھنے سے قبل مگر مجھے وہ کہانی بیان کرنا ہوگی جو یہ کالم لکھنے کا سبب ہوئی۔

واٹس ایپ جیسی ایک اور ایپ بھی ہے۔ نام ہے اس کا "سگنل"۔ اسے ایجاد کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اگر آپ اس ایپ کو اپنے فون پر نصب کرلیں تو اس کے ذریعے ہوئی گفتگو دنیا کی کوئی انٹیلی جنس ایجنسی بھی سن نہیں سکتی۔ مذکورہ ایپ کے تخلیق کاروں کے دعویٰ کی تصدیق اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ منگل کی شام امریکی سینٹ کی انٹیلی جنس امور پر نگاہ رکھنے والی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے سی آئی اے کے ٹرمپ کی جانب سے لگائے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ اسے دفتری امور کے لئے جو دفتر وسامان ملا ہے اس میں "سگنل" نامی ایپ استعمال کرنے والے آلات بھی شامل ہیں۔ "سگنل" کو گویا سی آئی اے بھی "محفوظ" سمجھتی ہے۔

بہرحال ٹرمپ کے لگائے مشیر برائے قومی سلامتی امور نے مذکورہ ایپ پر "آپس کی گفتگو" کے لئے ایک گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ مذکورہ گروپ نے فیصلہ یہ کرنا تھا کہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکہ فضائی حملے کرے یا نہیں۔ اگر کرنا ہیں تو یہ فضائی حملے کن محفوظ ٹھکانوں پر کس روز کئے جائیں۔ حوثی، یاد رہے کہ ان دنوں یمن پر قابض ہیں۔ ان کے قبضے کو مگر سوائے ایران کے دنیا کا کوئی اور ملک تسلیم نہیں کرتا۔ "حوثیوں" کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے یمن میں غربت وقحط سالی اپنے عروج پر ہے۔ وہ مگر یمن کی دفاعی اہمیت کو کمتر نہیں بناسکے۔

آبنائے ہرمز کے تقریباََ سرپر واقع یمن سے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو میزائل پھینک کر تباہ کردیاجائے تو سمندری تجارت میں قیامت خیز تعطل آسکتا ہے۔ اس تعطل سے فقط پاکستان اور بھارت جیسے ممالک ہی اپنی درآمدات وبرآمدات سے کئی دنوں تک محروم نہیں رہیں گے۔ یورپ کے بے تحاشہ ممالک بھی ایسے ہی عذاب سے دو چار ہوجائیں گے۔ جو قیامت برپا ہوسکتی ہے اس کے امکانات کو حوثی حکمران وقتاََ فوقتاََ سمندر میں چلتے جہازوں پر میزائل پھینکتے ہوئے عیاں کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کے نہتے شہریوں کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنانا شروع کیا تو حوثیوں نے یورپ جانے والے جہازوں پر تواتر سے میزائل پھینکنا شروع کردئے۔ اسرائیل حوثیوں کی "دیدہ دلیری" کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتا رہا۔ کئی بار اس کا وزیر اعظم حوثیوں ہی کو نہیں بلکہ ایران کو بھی سبق سکھانے کی بڑھک لگاچکا ہے۔

ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد فیصلہ کیا کہ بحیرہ احمر سے یورپ کے ساتھ تجارت کو "محفوظ" بنانے کے لئے امریکہ آگے بڑھے اور حوثیوں کے ان ٹھکانوں کا پتہ لگاکر تباہ کردے جہاں سے بحری جہازوں پر میزائل پھینکے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں اس نے اپنے مشیر برائے قومی سلامتی کو حکم دیا کہ وہ اس کی سوچ پر عمل درآمد کے لئے متعلقہ اداروں سے رجوع کرے۔ مائیکل والٹزاس مشیر کا نام ہے۔ اس نے مذکورہ موضوع کے لئے "حساس اداروں" کے اعلیٰ ترین سطح پر فائز لوگوں کے مابین یمن کے خلاف کارروائی کو زیر بحث لانے کے لئے "سگنل" نامی ایپ پر جو گروپ تشکیل دیا اس میں ایک صحافی کو بھی شامل کرلیا۔ جس صحافی کا نام اس گروپ میں نظر بظاہر "غلطی" سے ڈالا گیا ہے اس کا نام ہے جیفری گولڈ برگ۔ وہ امریکہ کے مشہور ماہنامے "انٹلانٹک" کا ایڈیٹر ہے۔ یہ رسالہ ٹرمپ کا شدید نقاد بھی ہے۔

ابتداََ جیفری نے یہ فرض کرلیا کہ کسی نامعلوم شخص نے اسے "گمراہ" کرنے کے لئے امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کا روپ دھار کر ایک ایسے گروپ میں شامل کرلیا ہے جس کا مقصد یمن کے خلاف فوجی کارروائیوں کافیصلہ ہی نہیں بلکہ اس کی تفصیلات بھی طے کرنا ہیں۔ مارچ کے وسط میں لیکن یمن میں حوثی ٹھکانوں پر امریکہ کے فضائی حملوں کے بعد احساس ہوا کہ اسے جس گروپ میں شامل کیا گیا تھا وہ جعلی نہیں بلکہ امریکہ کے حساس ترین اداروں کے سربراہان پر مشتمل تھا۔ ان کے مابین یمن پر فضائی حملوں سے قبل جو بحث ہوئی وہ بھی گولڈ برگ کے پاس موجود ہے۔ اس کے چند "نمونے" اس نے سوشل میڈیا پر بھی دکھادئے ہیں۔

جو "ٹوٹے" گولڈ برگ دنیا کے سامنے لایا ہے ان کی بدولت ا مریکہ کا نائب صدر بارہا یہ سوال اٹھاتا رہا کہ امریکہ یمن کے حوثیوں پر حملے کیوں کرے۔ اس کی دانست میں مشرق وسطیٰ کے سمندری راستوں پر امریکی تجارت کا فقط 4فی صد تک انحصار ہے۔ یورپ کی 40فی صد تجارت البتہ ان راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ اپنی تجارت کی حفاظت لہٰذا یورپ کے ممالک اپنے طورپر کریں۔ امریکہ ان کی آسانی کے لئے اپنی فوج اور اسلحہ کیوں استعمال کرے۔ اس نے یہ سوال اٹھائے تو نہایت حقارت سے یہ اطلاع دی گئی کہ یورپی ممالک کی بحری افواج اپنی تجارت محفوظ بنانے کے قابل نہیں ہیں۔ اپنے "نیٹو" اتحادیوں کی آسانی کے لئے امریکہ ہی کو فوجی قوت استعمال کرنا ہوگی۔

امریکی نائب صدر -جے ڈی وینس- نے برسرعام ہوئی گفتگو کے دوران یورپ کے لئے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ انتہائی ہتک آمیز ہیں۔ یورپ کے جرمنی اور فرانس جیسے ملکوں میں یہ قومی جذبات بھڑکائیں گے۔ فرانس پہلے ہی ایک ایٹمی طاقت ہے۔ اپنی زبان وتہذیب پر بہت نازاں محسوس کرتا ہے۔ جرمنی نے دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں سے شکست کھانے کے بعد اپنے ملک کے دفاعی بجٹ کو محدود رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس نے ایٹم بم کے حصول سے بھی گریز کیا اور خود کو امریکہ کی دفاعی چھتری تلے محفوظ محسوس کرنا شروع کردیا۔ امریکی نائب صدر کی عیاں ہوئی گفتگو مگر جرمنی کو اب بہت کچھ سوچنے کو مجبور کررہی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.