Thursday, 03 April 2025
    1.  Home
    2. Guest
    3. Nusrat Javed
    4. Nojawan Nasal Umeed Kab Aur Kaise Ganwa Baithi?

    Nojawan Nasal Umeed Kab Aur Kaise Ganwa Baithi?

    سیاست سے اُکتائے اور پیکا قانون سے گھبرائے ذہن کو اس کالم کے لیے مختلف نوعیت کے مواد درکار ہیں۔ فلم اور کتاب اس ضمن میں ہمیشہ مددگار ثابت ہوئے۔ آخری بار مشہور امریکی صحافی باب ووڈورڈ کی کتاب پڑھی تھی۔ اس کی بدولت ٹرمپ کا اندازِ سیاست سمجھنے کو مناسب رہنمائی ملی۔ اہم ترین دریافت اس کتاب کی وجہ سے یہ بھی ہوئی دنیا کے طاقتور فیصلہ سازوں سے برائہ راست گفتگو کے لیے سعودی عرب کے پرنس محمد بن سلمان نے بے تحاشا تعداد میں برنر، فون خرید رکھے ہیں۔

    یہ سستے فون ہوتے ہیں جن کو کچھ دیر استعمال کے بعد آپ ضائع کردیتے ہیں۔ ٹرمپ سے گفتگو کے لیے بھی وہ ایسا ہی فون استعمال کرتے رہے اور موصوف کے وائٹ ہائوس لوٹنے سے قبل بھی اس سے مستقل رابطے میں رہے۔ برنر فون کی بنیاد پر مضبوط تر ہوئے تعلقات کی وجہ سے امریکی صدر اب روس اور یوکرین کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں بیٹھ کر باہمی مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کی جانب راغب کررہا ہے۔ عالمی امور پر نگاہ رکھنے والے افراد ٹرمپ کے دورِ صدارت میں امریکا اور سعودی عرب کے مابین رشتوں کو گہرے سے گہرے تر ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

    برنر فون کا استعمال مگر برطانیہ کے ایک ڈرامہ نگار نے اپنے ایک اداکار دوست کے ساتھ مل کر بھی کیا ہے۔ اس کی بدولت وہ تقریباً چھے ماہ تک ٹیلی فون پر بنے ان گروہوں میں گھس گئے جو عورتوں سے شدید نفرت کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انگریزی زبان میں ایسے افراد کو Incelsکہا جاتا ہے۔ یہ لوگ مصر ہیں کہ 80 فیصد خواتین دنیا میں محض 20فیصد مردوں کو پسند کرتی ہیں۔ مرد وعورت کے باہمی تعلقات لہٰذا دیانتداری واخلاص پر مبنی نہیں ہوتے۔ محبت ایک جھانسا اور ڈھکوسلا ہے جو خواتین مردوں کو بے وقوف، بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

    سٹیفن گراہم نام کے اداکار کو ایسے گروپس میں گھسنے کا خیال برطانیہ میں گزشتہ چند برسوں سے بڑھتی ہوئی ان وارداتوں کی وجہ سے آیا جہاں 18سے 25سال کے درمیان عمر کے مرد کسی خاتون کو نظر بظاہر بغیر کسی ٹھوس وجہ سے قتل کردیتے رہے۔ پولیس نے گہری تفتیش کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن مردوں نے یہ قتل کیے تھے وہ مقتولہ کے ساتھ کسی ٹھوس وجہ سے ناراض نہیں تھے۔ ان کے دلوں میں عورت ذات سے عمومی مگر شدید نفرت ایسے قتل کا سبب ہوئی۔

    سٹیفن نے چھے مہینے کی محنت سے جو کچھ دریافت کیا اسے جیک تھارن نامی ڈرامہ نگار کے سپرد کردیا۔ جیک نے سٹیفن کے جمع کیے مواد کی بنیاد پر نیٹ فلیکس پر Adolescence(بلوغت) کے نام سے ڈرامائی سلسلہ لکھا۔ اس کی پہلی قسط ہی نے لوگوں کو چونکا دیا۔ برطانوی وزیر اعظم نے بھی اسے اپنے دو بچوں کے ہمراہ بیٹھ کر دیکھا ہے۔ اس ڈرامے کی بدولت برطانیہ کے اخبارات اور ٹیلی وژن پروگراموں میں موبائل فون کے استعمال پر گرم جوش بحث ہورہی ہے۔ حکومت پر دبائو بڑھ رہا ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر قانون سازی کرے کہ سولہ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے موبائل فون کا استعمال قطعاً ممنوع ہو۔ آسٹریلیا، ڈنمارک اور فرانس ایسے قوانین پہلے ہی متعارف کرواچکے ہیں۔

    دانشوروں کا ایک گروہ مگر اصرار کررہا ہے کہ موبائل فون اپنی جگہ ہمارے دلوں میں اضطراب پیدا کرنے کا باعث نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ والدین نے اپنے بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر تنہا بنادیا ہے۔ خود کو فراموش کردہ بچے سمجھتے ہوئے وہ موبائل فون کی مدد سے ایسے دوست، ڈھونڈتے ہیں جن کے خیالات انھیں زندہ، رہنے کا احساس دلائیں اور وہ کسی مشن، کی تکمیل کے لیے اس دنیا میں آیا محسوس کریں۔

    جس ڈرامے کا ذکر ہے وہ ایک 13سالہ بچے کی کہانی ہے۔ دیکھنے میں وہ انتہائی باتمیز، نرم مزاج اور مؤدب بچہ ہے۔ اپنی ظاہری پہچان کے برعکس وہ موبائل فون کی وجہ سے ان گروپس سے متاثر ہوگیا جو عورت کو بدی، کی علامت تصور کرتے ہیں اور ان کا قتل واجب ٹھہرانے کے لیے نت نئے دلائل ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ایسے گروہوں سے مسلسل رابطے نے بالآخر اسے اپنی ایک ہم مکتب کے قتل کو اُکسایا۔

    موبائل فون پر میسر بے تحاشا ایپس کی بدولت دنیا کے کئی ملکوں میں مذہبی اور نسلی فسادات پھوٹے۔ سوشل میڈیا کے پھیلائے ہیجان نے پاکستان کو بھی کئی برسوں سے پریشان کررکھا ہے۔ جس ہیجان کا ذکر ہے وہ بنیادی طورپر سیاسی، سوالات سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی دہشت گردی بھی موبائل فون کی وجہ سے وحشت خیز ہوتی چلی گئی۔

    ہمارے لکھاری، فلم ساز اور ڈرامہ نگار مگر ایسے ڈرامے یا فلمیں تیار کرنے میں قطعاً ناکام رہے جو سیاسی ہیجان، مذہبی انتہا پسندی اور نسلی منافرت کے بڑھتے ہوئے رحجان کا حقیقی زندگی میں متحرک کرداروں کے حوالے سے پتا چلائے۔ تحقیقی لگن سے تشکیل دیے ڈراموں اور فلموں کی عدم موجودگی میں ہم دہشت گردی کو معمول، کے واقعات کی طرح لے کر بھول جاتے ہیں۔ غالباً اسی وجہ سے 2008ء کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر ہوئے کئی آپریشن ہمیں ابھی تک محفوظ نہیں بناپائے ہیں۔ اب کچھ دنوں سے ہارڈاسٹیٹ، کی بات ہورہی ہے۔ پیکا قوانین بنیادی طورپر ایک مخصوص سوچ کو کڑی سزائوں کے نفاذ سے ختم کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس سوال پر کہیں بھی غور نہیں ہورہا کہ ہمارے نوجوان موجودہ نظام ہی نہیں بلکہ زندگی سے بھی اکتائے کیوں محسوس کررہے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے کے دوران مجھے چند افطار پارٹیوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی کافی تعداد سے گفتگو کے مواقع ملے۔ اپنے مستقبل کے وطن عزیز میں بہتر ہونے کے امکانات انھیں نظر نہیں آرہے۔ میری نسل کے اکثر نوجوان بھی 1970ء کی دہائی میں کئی برسوں تک کاملاً باغی، رہے تھے۔ ہم مگر موجود، سے گھبراکر ملک چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ یہاں رہتے ہوئے ہی حالات بہتر ہونے کی امید باندھے رکھی۔ سوال اٹھتا ہے کہ کب اور کیسے ہماری نوجوان نسل امید گنوابیٹھی؟ اسے لوٹانے کے لیے ہماری نسل کو کیا کرنا ہوگا۔ عیدالفطر کے دوران طویل دنوں کی مہلت میسر ہوگی۔ کاش خوشی کے ان دنوں میں ہم اپنے بچوں اور بچیوں کو عیدی دے کر اپنے کمرے میں لوٹ کر بستروں میں دبک نہ جائیں۔ ان کے ساتھ لمبی گفتگو کرتے ہوئے ان کے دل ودماغ میں موجزن جذبات کو سمجھنے کی پراخلاص کوشش کریں۔

    About Nusrat Javed

    Nusrat Javed

    Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.