Thursday, 03 April 2025
    1.  Home
    2. Guest
    3. Rauf Klasra
    4. Apni Izzat Apne Hath

    Apni Izzat Apne Hath

    اکثر دوستوں نے پوچھا ہے آپ نے اسلام آباد میں پیدل چلنا کب سے شروع کیا ہے؟ ہوا کچھ یوں کہ چند برس پہلے میں بلیو ایریا میں بیورلے سینٹر میں کسی دوست سے ملنے گیا۔ وہاں بیٹھا کچھ کھا پی رہا تھا کہ ایک بندہ میری طرف آیا۔ کچھ تھوڑی سی میرے لکھنے بولنے کی تعریف کی۔ میں نے بڑی عاجزی سے شکریہ ادا کیا اور دوبارہ گپیں مارنے لگے۔

    پورا ایک ڈیرہ گھنٹہ وہاں کیفے میں بیٹھے رہے۔ اتنی دیر میں شام بھی ہوچلی تھی۔ میں باہر نکل کر پارکنگ کی طرف گیا جہاں میری گاڑی پارک تھی۔ میں نے ابھی گاڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ اچانک کوئی بندہ جیسے کہیں چھپا ہوا ہو وہ چھلانگ لگا کر سامنے آیا۔ ایک لحمے کے لیے میں بھی گھبرا گیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ اچانک مجھے لگایہ تو وہی ہیں جو گھنٹہ دو گھنٹے پہلے مجھے اندر کیفے میں ملے تھے۔

    میں نے کہا سر جی خیریت؟ کہنے لگے آپ تو واقعی ایماندار صحافی ہیں۔

    میں کچھ حیران ہوا کہ اگر انہیں میں ایماندار لگتا ہوں تو وہ یہ بات وہیں کیفے میں بھی کہہ سکتے تھے۔

    میرے چہرے پر کچھ حیرانی دیکھ کر بولے کہ دراصل میں یہاں پارکنگ میں ڈیرہ گھنٹے سے انتظار کررہا تھا کہ آپ آئیں گے تو دیکھوں گا آپ کے پاس کس ماڈل کی گاڑی ہے وہاں سے اندازہ ہوگا کہ آپ پیسے پکڑتے ہیں یا ایماندار ہیں۔ بڑے بڑے اینکرز کے پاس لینڈ کروزر، مرسیڈز، بی ایم ڈبلیو، جہاز تک ہیں جو یقیناََ حرام سے کماتے ہیں۔ لیکن آپ کی گاڑی تو مجھے سکینڈ ہینڈ لگ رہی ہے مطلب آپ پیسہ نہیں بناتے۔

    میں نے شکر ادا کیا کہ اس وقت 92 چینل کی دی ہوئی لینڈ کروزر (جو چینل چھوڑنے پر واپس کر دی تھی) میں سوار نہیں تھا ورنہ آج تو میں اس اپنے فین کے ایمانداری پرچے/امتحان میں فیل ہوگیا تھا۔ میں نے اسے داد دی بلکہ پیٹھ ٹھوکی کہ وہ ڈیرہ گھنٹہ باہر پارکنگ میں میرا انتظار کرتا رہا کہ آج تو چیک کرکے ہی جائوں گا کہ یہ کتنا ایماندار ہے۔

    اس دن احساس ہوا اگر آپ نے اپنی کمائی سے بھی بڑی گاڑی لی ہوئی ہے تو وہ دیکھنے والوں کے نزدیک وہ حرام کا پیسہ ہے اور آپ دو نمبر صحافی ہیں۔ صحافی کو بھوکا اور پیدل ہونا چاہئے پھر اس کی عزت ہوگی۔

    اس دن کے بعد میں اب سکینڈ ہینڈ کار چلاتا ہوں اور شہر میں پیدل ہی چلتا ہوں کہ اس میں ہی عزت ہے۔

    امید ہے میرے پیدل چلنے کی وجہ آپ سب کو سمجھ آگئی ہوگی جو کل سے پوچھ رہے ہیں۔

    وہی بات کہ اپنی عزت اپنے ہاتھ ہوتی ہے۔ مجھے لگا میری صحت سے بڑھ کر میری عزت بھی پرانے جوگر، پرانا میلا کچیلا ٹراوز اور ٹی شرٹ پہن کر دس بارہ ہزار قدم پیدل چلنے میں ہی ہے۔

    About Rauf Klasra

    Rauf Klasra

    Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.