Friday, 28 March 2025
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Pak Saudia Barhte Taluqat

Pak Saudia Barhte Taluqat

پاک سعودیہ دوستی کی تابناک تاریخ کئی عشروں پر محیط ہے۔ دونوں ممالک میں عوامی روابط کے ساتھ اعلیٰ سطح کے دوطرفہ دورے بھی معمول ہیں۔ رواں ماہ بدھ 19 مارچ کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد سعودیہ کا دوسرا سرکاری دورہ کیا ہے جس سے باہمی تعلقات میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے۔ دورے کے دوران وزیرِ اعظم نے رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں زیاراتِ مقدسہ کے ساتھ دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات جا جائزہ لیا۔

پاکستان چاہتا ہے سعودیہ صنعت و زراعت میں سرمایہ کاری بڑھائے تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے میں کشادہ دلی دکھائے۔ گزشتہ برس اپریل 2023 کو بھی شہباز شریف نے سعودی عرب کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تھا اِس دوران معمول کے تعلقات بہتر بنانے کے ساتھ دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی لیکن موجودہ دورے میں جس قدر اُنھیں پزیرائی ملی ہے اُس کی روشنی میں یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اِس دورے سے دونوں ممالک میں موجود بدگمانیوں کا نہ صرف خاتمہ ہوا ہے بلکہ ہر شعبے میں تعاون کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

سعودی سرمایہ کاری اب بھی پاکستان میں کم ہے کیونکہ سعودی قیادت اِس حوالے سے بھارت کو ترجیح دیتی ہے۔ بھارتی کردار کو مشرقِ وسطیٰ میں فروغ دینے میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کا اہم کردار ہے جنھیں بھارت اپنا دوست کہہ کر عرب ممالک میں رسوخ بڑھاتا رہا لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ ماضی میں فلسطینیوں کی خیر خواہی کا دم بھرنے والا اب اسرائیل کا قریبی دوست اور اتحادی ہے۔ ریاستوں کے باہمی تعلقات مستقل نہیں ہوتے یہ حالات و مفاد کے تابع ہوتے ہیں اسی لیے عرب ممالک کا بھارت کی طرف جھکاؤ برقرار ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان معاشی کے ساتھ عالمی کردار بہتر بنانے پر توجہ دینے لگا ہے اب دوست ممالک سے تعاون بڑھانے اور مزید قریب ہونے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہونے لگی ہیں۔

سعودی عرب اور یمن جنگ کے دوران غیر جانبدار رہنے کی پاکستانی پالیسی نے ریاض اور اسلام آباد کو دور کر دیا تھا۔ مقدس مقامات کی سرزمین ہونے کی وجہ سے سعودیہ کو مسلم ممالک میں نمایاں مقام حاصل ہے اِس بنا پر سعودی قیادت کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جس مسلم ریاست کو آواز دے گی اُس کاجواب ہمیشہ مثبت آئے گا حالانکہ مملکتوں کے تعلقات مفادات کے تناظر میں بڑھتے اور کم ہوتے ہیں۔ سعودی قیادت کی یہ توقع کچھ غلط بھی اِس بنا پر نہیں کہ ایک تو مقدس مقامات کی سرزمین ہے دوم تیل کی دولت کی وجہ سے مسلم ممالک میں مالی حوالے سے خوشحال ہے اسی لیے مذہبی لگاؤ اور مالی امداد جیسی توقعات اُسے مسلم ممالک میں اہم کرتی ہیں۔

پاکستان نے تو ہمیشہ سعودی احکامات کی بجا آوری کی ہے اسی لیے غیر جانبداری اختیار کرنا اُسے سخت ناگوار گزرا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی کی جگہ سرد مہری آئی۔ ابتدا میں پاکستان نے سفارتی زرائع سے پیداشدہ صورتحال درست کرنے کی کوشش کی مگر بات نہ بن سکی کچھ دوست ممالک کا کردار بھی تلخی کم نہ کر سکا، یوں تاریخ میں پہلی بار پاک سعودیہ تعلقات خراب ہوئے حالانکہ ماضی میں پاکستان نے ہمیشہ سعودیہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔

دراصل پاکستان کا یمن جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ سعودیہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا علاوہ ازیں شریف خاندان کی حکومت کے دوران تو ایسا ہونا بعید از قیاس تھا جن کی برسوں تک سعودی شاہوں نے مہمان نوازی کی اسی بنا پر یقین تھا کہ سعودی آواز پر پاکستان عسکری مدد فراہم کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لے لگا لیکن پہلی بار پاکستان نے سعودی فیصلوں میں ساتھ دینے سے اجتناب کیا جو تلخی جنم دینے کا باعث بنا۔

پاکستان نے ایک غلطی یہ کی کہ یمن جنگ کا مسلہ پارلیمنٹ میں پیش کردیا جس پر زوردار بحث ہوئی۔ عمران خان جیسے اپوزیشن رہنماؤں نے شعلہ بیانی سے حکومت کو اِس حد تک زچ کر دیا کہ نواز شریف باوجود کوشش کچھ نہ کر سکے۔ آخرکار بحث ومباحثہ کے بعد پارلیمنٹ نے دس اپریل 2015 کو اپنی افواج بھیجنے کی بجائے یمن جنگ میں غیر جانبدار رہے کی قرارداد منظور کر لی جبکہ سعودیہ کو توقع تھی کہ شریف خاندان احسانات کا بدلہ لڑائی کے لیے فوج بھیج کر چکائے گا مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا۔

غیر جانبدار ی کے فیصلے پر متحدہ عرب امارت نے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دے ڈالی حالانکہ عرب مارات کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ کسی سے لڑنا تو درکنار اپنا دفاع کرنے سے بھی قاصر ہے۔ صاف ظاہر تھا کہ اُس نے یہ دھمکی سعودی قیادت کے ایما پر دی تھی اِس لیے تلخی کا زمہ اکیلے پاکستان کو ٹھہرانا انصاف نہیں ایک طرف اگر توقعات پوری نہ ہونے کارنج تھا تو دوسری طرف مجبوریاں آڑے آئیں۔

2018 کے عام انتخابات میں شریف خاندان حکومت سے اپوزیشن میں آگئے اور عنانِ اقتدار عمران خان نے سنبھال لی تو اُنھیں معلوم ہوا کہ سعودی ترسیلاتِ زر کھونے کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا نیز قرضوں کی دلدل میں پھنسے پاکستان کو موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت جیسی نوازش ایک اور مہربانی ہے۔ پاکستان جسے کئی عشروں سے معاشی بدحالی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے یہ نوازشات بہت اہم ہیں اصل حالات کا علم ہوتے ہی وہی عمران خان جو اپوزیشن میں ہوتے ہوئے یمن جنگ کا حصہ بننے کو ملک کے لیے نقصان دہ تصور کرتے تھے حکومت میں آتے ہی سعودی تعاون بحال کرانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے۔

نہ صرف سعودی شاہوں سے زاتی تعلقات بنائے بلکہ دوطرفہ تعاون بہتر بنایا افرادی قوت فراہمی کے مزید کئی معاہدے کیے۔ مئی 2021کے دورہ سعودی عرب کے دوران عمران خان نے دوطرفہ تعاون میں اضافے کے لیے ایک کونسل تشکیل پائی جس کا تلخیاں کم کرنے اور شراکت داری کے فروغ میں قابلِ قدر حصہ ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے بھی عمران خان کی کوششوں کو بارآور بنانے میں بھرپور ساتھ دیا اِس طرح دوریاں کم ہوئیں اور باہمی تعلقات میں کچھ گرمجوشی دیکھی جانے لگی۔

پاک سعودیہ بڑھتی شراکت داری ثابت کرتی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضرورت ہیں دفاع، توانائی، آئی ٹی، معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں بھی یہ شراکت داری برقرار رہے گی۔ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے مطابق آمدہ پانچ برس کے دوران پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کا حجم پچیس ارب ڈالر ہوگا۔ اگر سرمایہ کاری کا یہ سنگِ میل توقعات کے مطابق عبور کر لیا جاتا ہے تو نہ صرف پاکستان کی معیشت میں بہتر ہوگی بلکہ تیل کے متبادل معیشت بنانے کے سعودی منصوبہ کوبھی تقویت ملے گی۔